ارریہ 25/ڈسمبر (ایس او نیوز/موصولہ رپورٹ) مولانااسرارالحق قاسمی اسلاف و اکابر کے نمونہ اور عظیم اخلاق سے متصف عالم وقائد قوم تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو ہرطبقے میں مقبولیت حاصل تھی۔ یہ باتیں مولانامرحوم کے خادم خاص مولانا نوشیر احمد نے ریاست بہار کے ارریہ میں واقع مدرسہ تنظیم المسلمین رجوکھر بازار میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ مولانا مرحوم مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو ہر حال میں دور کرنا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے ایم پی بننے کے بعد جب وہ پہلی بار سونیاگاندھی سے ملنے پہنچے ،توانہیں اپنی ایک کتاب پیش کی اور کہاکہ میں بہار کے سیمانچل سے تعلق رکھتا ہوں جہاں غربت اور علاج کی سہولت کے فقدان کے ساتھ بہت زیادہ تعلیمی پسماندگی ہے اسے دور کرنے میں آپ میری مدد کیجئے،یہی وجہ تھی کہ مولانا نے حج کمیٹی کا چیئر مین یا وزیر بننا بھی قبول نہیں کیا۔انہوں نے مولانا کی تعلیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اپنی سرپرستی میں سیکڑوں مکاتب و مدارس اور اسکول و کالج قائم کروانے کے علاوہ انہوں نے اپنے ایم پی ہونے کی مدت میں 233؍ بورڈکے مدارس کی تعمیر وتزئین کروائی،ان کا نظام بہتر کروایا اور ان مدارس میں سہولیات فراہم کروائیں تاکہ جو بچے اور بچیاں ان مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں انہیں بہتر تعلیمی ماحول مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا کو سیمانچل سے جو محبت تھی وہ قابل رشک ہے۔انہوں نے کہاکہ مفتی انعام الباری قاسمی اور ان کے ساتھیوں نے یہ تاریخ ساز سیمینار منعقد کرکے مولانا مرحوم سے سچی محبت کا ثبوت پیش کیاہے ۔
ارریہ کے ایم پی سرفراز عالم نے کہا کہ مجھے جب بھی کسی طرح کی رہنمائی کی ضرورت پیش آئی تومولانا نے صحیح سمت دکھانے کا کام کیا۔انہوں نے کہاکہ میں اعلان کرتاہوں کہ ان کے چاہنے والوں کوکسی قسم کی بھی ضرورت ہوتومیں ان کے ساتھ کھڑاہوں۔ مولانا کی ذات سے صرف سیمانچل اورارریہ کو ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی تنظیموں اور افراد کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ میرے والد مرحوم اور حضرت مولانا کے درمیان گہرا لگاؤ تھا اور دونوں ایک دوسرے کا بڑا احترام کرتے تھے،ان کے انتقال کے بعدمولانا ہمیشہ مجھ پر شفقت فرماتے رہے۔
شاہنواز بدر قاسمی نے کہا کہ مولانامرحوم سیمانچل کے سرسید ثانی تھے، جنہوں نے زندگی بھر تعلیم کی روشنی کو عام کرنے کی کوشش کی۔مدرسہ یتیم خانہ کے پرنسپل مولانا شاہد عادل قاسمی نے حضرت مولانا کی سیاسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سیاسی میدان میں آنے کا فیصلہ مولانا کااپنا نہیں تھا، بلکہ انہیں ملک کے اکابر علمااور بزرگوں نے سیمانچل کے عوام کی خدمت کے لیے بھیجا تھا، جو آخری لمحے تک وہ کرتے رہے۔مولانا کے ذریعہ سے سیمانچل کوعزت حاصل ہوئی اورآزادی کے بعد تاریخ میں مولانا واحد ایسے عالم دین تھے جو دارالعلوم دیوبند کے رکن شوریٰ بنائے گئے۔ قاضی شریعت مولانا عتیق اللہ رحمانی نے کہا کہ مولانا کو سچی خراج عقیدت ان کے بتائے ہوئے اور چھوڑے ہوئے کاموں کو آگے بڑھانا ہے۔ ماسٹر ارشد انور الف نے کہا کہ مولانا نے کشن گنج میں اے ایم یو کی شاخ لانے میں جو جدوجہد کی اور مسلمانوں کی سنجیدہ قیادت کی وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔
صحافی عبد الغنی نے کہا کہ حضرت کی ذات گرامی اپنے آپ میں ایک انجمن تھی جس سے کوئی بھی فائدہ حاصل کر سکتا تھا۔ مفتی رضوان عالم قاسمی نے کہا کہ اسرارالحق قاسمی ایک تحریک کا نام ہے،انہوں نے قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے بے مثال کارنامے انجام دیے ہیں۔
قبل ازاں سیمینار کا آغاز مبشر نظر کی تلاوت سے ہوااور پروگرام کے کنوینر اور مدرسہ تنظیم المسلمین کے ناظم اعلیٰ مفتی انعام الباری قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ مولانا مرحوم کی پوری زندگی جہد مسلسل،سعی پیہم اور مسلسل خدمت کرنے سے عبارت تھی،مولانا ایک بلند پایہ عالم دین،قوم کے مسیحا تھے۔
پروگرام کی صدارت سابق جج زبیرالحسن غافل نے کی،انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ مولانا کا انتقال ایک تاریخ ساز عہد کا خاتمہ ہے،سیاست میں ایسے شریف النفس لیڈران کم ہی ہوتے ہیں۔ سیمینار کی نظامت قاری نیاز احمد قاسمی نے انجام دی اورقاری نعیم الدین کی دعاء پر سیمینار اختتام پذیر ہوا۔سیمینار میں اظہار خیال اور مقالات پیش کرنے والے دیگر لوگوں میں مفتی اطہر الحق قاسمی، آفتاب عظیم چیئرمین ضلع پریشد، مفتی اظہار قاسمی، مولانا زبیر مظاہری، الحاج عبدالغفار، معصوم رضا، الحاج غلام سرور ، مہتاب عالم، معراج خان اور مشتاق احمد صدیقی وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔